CME Seminar on Gynea & Social Obs



کراچی۱۱،اکتوبر(پ،ر) آبسٹیٹر کس اینڈ گائنا کالوجی ڈپارٹمنٹ بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں پیڈیاٹرکس ڈپارٹمنٹ کے اشترک سے عورتوں کو بچوں کی پیدائش کے بعد سے ہی اپنی چھاتی سے دودھ پلانے کی اہمیت بتانے اور انہیں اس خوش گوار فریضہ کو ادا کرنے کے لئے رغبت دلانے کے لئے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہر امراض اطفال اور بچوں کے ہسپتال کے نگراں پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین اکبر، گائناکالوجی ڈپارٹمنٹ کی سینئر ماہر پروفیسر فرخ ناہید اسی شعبے کی پروفیسر آصفہ غازی، سینئرماہر اطفال ڈاکٹر ارشد حامد خاں، ماہر ادویات ڈاکٹر ظفر مہدی اور ڈاکٹر طاہر سعید نے بچوں اور ماؤں کی صحت کے مسائل، ماں کے دودھ کی اہمیت اور قدرت کی طرف سے اس کے ترسیلی نظام، بچوں کی صحت پر فارمولایاغیر قدرتی دودھ کے اثرات اور مذہب اسلام کی رو سے ماؤں کو اپنا دودھ بچوں کو پلانے کے واضح احکامات کے بارے میں آگاہی بہم پہنچائی۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین اکبر نے بتایا کہ بچوں کے صحت کے بیشترمسائل ان کی غذا کی ضرورت کو پورا کرنے میں غفلت لاپرواہی اور عدم توجہی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ بچوں کو ماؤں کا دودھ پلنا ایک قدرتی تقاضہ ہے۔ جو مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں وہ اپنا اور بچے کا نقصان کر تی ہیں اور بچے کو قدرت کے اس تحفے سے محروم رکھتی ہیں جو خاص طور پر اس کے لئے نازل کیا گیا۔ ملک میں صرف پچیس فیصد مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں جبکہ قرآنی حکم کے مطابق سوادوسال تک انہیں دودھ پلانے کے حکم کی تعداد نوفیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ ماں بننے کی صلاحیت رکھنے والی عورتون کو ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ان کادودھ ان کے نوزائیدہ بچے کا حق ہے۔ یہ نہ بوجھ ہے نہ ہی کسی پر احسان ہے ۔ ان کا دودھ ابتدائی چھ ماہ تک بچے کی ہر قسم کی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ چھہ ماہ کے دوران جس بچے کی پرورش ماں کے دودھ پر ہورہی ہو اسے نہ پانی پلانے کی ضرورت ہے ناہی کسی خوراک کی ، ماں کے دودھ میں اس کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ یہی دودھ اس کی غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ گائناکالوجی اور امراض خواتین کی ماہر پروفیسر فرخ ناہید نے بتایا کہ ماں کی چھاتی میں دودھ اترنے کے مقصد کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ بلاوجہ نہیں پیدا ہوتا۔ قدرت کاکوئی عمل ہمارے لئے بیکار یافضول نہیں ہے، اس کے پیچھے ہمارا نفع اور بھلائی موجود ہے۔ ہم نے قدرت کی نعمتوں پر غور کرنا چھوڑ کر اپنا اورانسانیت کا نقصان کیا ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کی ضرورت ہونے کے ساتھ ماں کی صحت کی بھی ضمانت ہے۔جومائیں اپنے نچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں وہ بے شمار صحت کے فوائد اپنے لئے بھی حاصل کرتی ہیں۔ دو بہت بڑے فائدے جوانہیں حاصل ہوتے وہ اولاً چھاتی کے کینسر سے یقینی بچاؤاوردوم قدرتی برتھ کنٹرول کافائدہ ہے۔ بچوں کو دودھ پلانے سے خواتین کے حسن پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مرد ہو یاعورت دونوں قدرت کے نظام سے بغاوت کرکے اور اپنی من پسند چیزوں کو اختیار کرکے گھاٹے میں رہتے ہیں۔ میرا پیغام اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے ہے کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ ضرور پلائیں۔ یہ مخصوص مدت کے لئے خصوصی ضرورت اور فوائد کے ساتھ ان کی چھاتیوں میں اترتا ہے۔ اس کے فوائد کو سمجھیں۔ ڈاکٹر آصفہ غازی نے اس موقع پر کہا کہ حاملہ عورت میں دودھ پیدا ہونا ایک قدرتی اشارہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لئے خوراک، پانی اور دوا کا انتظام کردیا گیا ہے۔ دودھ پلا کر اسے فرحت اور تازگی حاصل ہوتی ہے جبکہ اس کے خلاف عمل سے بے چینی کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا دودھ بچے کے لئے آسانی سے اور جلدی ہضم ہوتا ہے۔ یہ بچے میں خاندان خصوصیت سے ماں کے ساتھ انسیت اور محبت پروان چڑنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ ڈبے کا فارمولا دودھ یاکسی جانور کا دودھ ماں کے دودھ کا بدل ہو ہی نہیں سکتا۔ ماں کا دودھ بچے کی صحت ماں کا حسن اور باپ کا خرچ بچاتا ہے۔