Seminar on Varicella Vaccination in Childern - Baqai Medical University



کراچی:۴؍اکتوبر(پ،ر) حکومت سندھ سوشل موبلائزیشن آف دی کمیونٹی کے زیر اہتمام فاطمہ ہسپتال بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے ہاؤس آفیسرز ، پوسٹ گریجویٹس طلبا کمیونٹی ورکرز کے لئے صوبائی سطح بچوں کو خسرہ اور دیگر بیماریوں سے بچاؤکے خلاف قومی شعوری مہم میں حفاظتی ٹیکہ لگانے اور بچوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لئے۱۵ سے ۲۷؍ اکتوبر تک جاری رہنے والی مہم کو کامیاب بنانے کے لائحہ عمل سے ماہرین اور کارکنان کو معلومات کی فراہمی کی گئی۔پروفیسر ڈاکٹر جلال اکبر ماہر امراض اطفال چیئرمین پیڈیاٹرکس ڈپارٹمنٹ فاطمہ ہسپتال نے اپنے خطاب میں ۲۰۱۲ء تا ۲۰۱۴ء کی مہم کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنا ہدف کیوں حاصل نہ کرسکے ہمیں ان خامیوں پر غور کرنا چاہئے اور ان کو دور کرکے اس مرتبہ ہمیں اپنے بچوں کو ٹیکہ جاتی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔ اس قومی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے تمام کارکنوں کا بھرپور تعاون درکار ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے بچوں کو پانچ امراض سے بچانے کے لئے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو کامیاب بنانا ہے۔بیماریاں ایک بچے سے دوسرے بچے میں منتقل ہورہی ہے جو دیگر بچوں کی صحت اور سلامتی کے لئے خطرہ کا باعث ہیں۔ پروفیسر جلال نے کہا کہ ہمیں حکومت سندھ کی حفاظتی ٹیکہ مہم میں اپنی ذمہ داری اور قومی فریضہ سمجھ کر حصہ لینا چاہئے۔ اس موقع پر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ کے ڈاکٹر شنیل نے کہا کہ یہ ہماری پہلی پچھلی قومی ٹیکہ جاتی مہم کا سلسلہ حصہ ہے لہٰذا اسے ناکام نہیں کہنا چاہئے، ہماری جدوجہد ۹۵فیصد کامیابی تک جاری رہے گی۔ پولیو سے پاک پاکستان ویکینیشن پروگرام تواتر سے جاری ہے۔ ہم کامیابی کے اہداف تک پہنچنے والے ہیں۔میڈیکل کے طلبا و طالبات اور ماہرین کے تعاون سے ہم نوزائیدہ بچوں کو معاشرتی سطح پر شعور و آگاہی پہنچاکر ان بیماریوں سے نجات دلاسکتے ہیں جن بچوں کی پیدائش کے بعد سے ہی توجہ دینی چاہئے۔والدین کے ساتھ ساتھ ان میٹرنٹی ہومز اور کلینکس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکوں کے کورس کی فراہمی یقینی بنائیں۔ یہ ایک قومی فریضہ ہے اور قومی سطح پر کمیونٹی اور میڈیکل شعبوں سے وابستہ 1532ٹیمیں پورے سندھ میں گھر گھر جاکر بچوں کو خسرہ اور دیگر پانچ بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی ویکینیشنز پر توجہ دیں۔ اس مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے معلومات تک رسائی کے لئے ذرائع ابلاغ اس کارخیر میں ہماری معاونت کرسکتے ہیں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا ساتھ دیں تو کامیابی سو فیصد ہوسکتی ہے۔ہمیں لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ خسرہ جیسی مہلک بیماری نے دوبارہ سراٹھایا ہے لہٰذا ۹ماہ سے ۵سال تک کے بچوں کو خسرہ کا ٹیکہ بلاعذر لازماً لگوانا چاہئے۔ ویکسینز کے بارے میں لوگوں کے تحفظات کو دور کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ تمام ویکسینز عالمی ادارۂ صحت (WHO) ، ہیلتھ منسٹری حکومت پاکستان اور حکومت سندھ کے صحت کے ادارے محفوظ حالت میں پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم صحت کے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے پاس ناکافی وسائل ہیں لیکن ہم قوم کو باور کراتے ہیں کہ ہماری تمام ویکسین ٹیمیں اعلیٰ تجربات کی حامل اور تربیت یافتہ ہیں جو کمیونٹی سطح پر گاؤں، دیہات اور شہروں میں گھر گھر جاکر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے پر مامورہیں۔ طلبۂ طب بھی اپنے علاقوں میں رضاکار کی نگرانی کریں کہ آپ کے علاقے میں بچوں کی صحت یقینی بنے گی تو مسائل سے نجات آسان ہوجائے گی۔ ہم پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام بھی اس قومی مہم میں شریک ہیں اور حصول نتائج کو ممکن بنانے کی کوشش کررہے ہیں