Rang Week 2018



کراچی:۲۰؍اگست(پ،ر) بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں فنونِ لطیفہ کلب کے زیرِ اہتمام دو روزہ غیر نصابی تقریب ’’رنگ ۲۰۱۸ء‘‘ کا انعقاد ہوا۔ ان رنگارنگ غیر نصابی سرگرمیوں کا مقصد طلبا و طالبات میں طبی تعلیم و تربیت کے دوران مذہبی، قومی اور ملکی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ پیشہ ورانہ زندگی میں اعتماد کے ساتھ کام کرسکیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ بقائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ مقابلوں میں حصہ لے کر آپ خود کو مستقبل کے چیلنجوں کے لئے تیار کرتے ہیں اس طرح انہیں آگے بڑھنے اور خود کو تسلیم کرانے کا ہنر آتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی کہا تھا کہ ’پلٹنا جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کے لئے موقع ہے کہ وہ بقائی آئیڈول کا اعزاز محنت، ہمت اور حوصلہ مندی کے ساتھ رنگ ۲۰۱۸ء کا ٹائٹل اپنے نام کراسکتے ہیں۔ قبل ازیں وائس پرنسپل بقائی ڈینٹل کالج ڈاکٹر طلحہ ایم صدیقی نے کہا کہ آج مقابلہ نغمات کے تینوں منصفین قومی سطح پر موسیقی میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ کامران سگو، ندیم جعفری اور واجد سعید آج ان مقابلوں کے منصفین ہونے کے ساتھ ساتھ آج مقابلۂ نغمات میں ہمارے مہمانانِ خصوصی بھی ہیں۔ اس موقع پر موسیقار ندیم جعفری نے کہا کہ طبی تعلیم میں ہر پل سیکھنا علمی تربیت کا حصہ ہے۔ اس طرح دنیا کا ہر علم اور ہنر مسلسل سیکھنے کا ایک عمل ہے جو زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ کامران سگّو نے کہا کہ طلبہ میں اُمنگ اور جوش ہے جو ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس طرح کے مقابلے ٹیلنٹ کے فروغ میں مدد دیتے ہیں۔ اس موقع پرواجد سعید نے کہا کہ آج پروگرام میں شریک ہوکر انہیں اپنا زمانۂ طالب علمی یاد آگیا کہ جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران اس طرح کے مقابلوں میں حصہ لیتے لیتے اب میں پیشہ ور اور کامیاب میوزک پروڈیوسر بن کر مختلف ٹیلی ویژن پر شانِ رمضان، برکت رمضان جیسے کامیاب پروگراموں میں میوزک پروڈیوس کئے ہیں۔انہوں نے طلبہ سے کہا کہ طبی تعلیم کے باوجود آپ میں فطری گلوکاری کا ہنر بھی موجودہوسکتا ہے جسے ہم دریافت کرکے پروان چڑھاسکتے ہیں۔ پرنسپل بقائی میڈیکل کالج پروفیسر افتخار احمد صدیقی نے کہا کہ انسانی جسم کی اناٹامی میں تمام حرکات گویا مانند موسیقی ہیں۔ طلبہ میں موسیقی کا جوہر ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔پرنسپل بقائی ڈینٹل کالج ڈاکٹر کاشف اکرام نے کہا کہ طلبا غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیکرشوق علم کو جلا دیں اور اس طرح کی سرگرمیوں سے ذہن میں نکھار آتا ہے۔ مقابلۂ موسیقی میں سرفہرست طالب علم شفاف علی فارم ڈی نے بقائی آئیڈول کا اعزاز حاصل کیا۔ رنگ ۲۰۱۸ء کے دوسرے حصے میں ملکی تہذیب و ثقافت کا رنگ لئے مردانہ اور زنانہ ملبوسات کی جلوہ آرائی تھی ، جسے ہم فیشن شو بھی کہہ سکتے ہیں۔ طلبا و طالبات نے بھرپور انداز میں پاکستانی ثقافت کی عکاسی کرتے ہوئے شائقین کے دل موہ لئے۔ منصفین کے فیصلے کے مطابق بی ڈی ایس سال آخر کی طالبہ اقرا قریشی بہترین ماڈل اور طالب علم شہریار خان ایم بی بی ایس سال سوم اور بی ڈی ایس سال سوم کے فاروق ناصر نے مردانہ ملبوسات کے نمائش کرتے ہوئے بہترین میل ماڈلز قرار پائے۔ رنگارنگ یلغار کے دوسرے دن کا مرحلہ شعر و سخن، ڈرامے، مزاح و ظرافت سے بھرپورتھا جس میں معاشرتی برائیوں سے گریز کرتے ہوئے اصلاحی پروگرام پیش کئے گئے ۔پروگرام کی مہمان خصوصی منفرد اور معروف اداکارہ زیبا بختیار تھیں۔ انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھا کریں اور ہمت یقین، حوصلے ، اعتماد اوربا مقصد جہد سے کامیابی کی جانب بڑھیں۔مقابلے کے منصف کامران جیلانی نے کہا کہ بقائی میڈیکل یونیورسٹی ان کا دوسرا گھر ہے۔یہاں محبتوں کا رشتہ ہے جو انہیں کھینچ کر لاتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کی ڈرامیٹک صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کہیں کہیں فنی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ علمی مسیحائی ہے اس کے باوجود طلبا میں ادارکاری کا شوق و ہنرجھلک رہا ہے۔ تمام طلبا وطالبات نے اداکاری میں اپنے کمال کے جوہر دکھائے ۔آرگنائزنگ ٹیم نے ان کے جوہر کی پوری طرح تراش خراش کرکے انہیں گوہر نایاب بنایا۔ اس موقع پر دوسرے منصف اداکار ہمایوں اشرف نے کہا کہ آپ اداکار نہیں ہیں لیکن مزید کوشش سے آپ اسکرین پر جلوہ گر ہوسکتے ہیں۔ آخر میں پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر جمیل احمد نے مہمانان گرامی اور فیکلٹیزسربراہان کا شکریہ