World Hepatitis Day 2018 at Baqai Medical University



کراچی:۳۱؍مئی(پ،ر) دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس میں مبتلا مریضوں کی تعداد تقریباً ۳۵کروڑ تک پہنچ چکی ہے ۔پاکستان میں یہ مرض شدت اختیار کررہا ہے۔ اس وقت تقریباً ایک کروڑ ۳۵لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کی مختلف پانچ اقسام اے، بی، سی ، ڈی اور ای میں مبتلا پائے جاتے ہیں ہیں جو ماہرین صحت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عالمی یوم ہیپاٹائٹس کے موقع پربقائی میڈیکل یونیورسٹی شعبہ میڈیسن کے زیر اہتمام اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے تعاون سے منعقدہ ’’ہیپاٹائٹس کا سدباب‘‘ کے موضوع پر ماہرین میں مہمان مقرر رستم خان اسسٹنٹ پروفیسر کنسلٹنٹ گیسٹو انکو جولوجسٹ آغا خان ہسپتال، اسسٹنٹ ڈاکٹر محمد کامران گیسٹو انکوجولوجسٹ پروفیسربقائی میڈیکل یونیورسٹی، پروفیسر کریم قمر الدین کنسلٹنٹ فریزیشن بقائی میڈیکل یونیورسٹی نے خطاب کیا۔ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس اے زیادہ خطرناک نہیں ہے تاہم احتیاط ضروری ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی سے متعلق ماہرین نے کہا کہ بھوک نہ لگنا، اسہال،تھکاوٹ، جلد اور آنکھوں میں پیلاہٹ،  پٹھوں، جوڑوں اور معدے میں درد کا احساس ہیپاٹائٹس بی کی علامات ہیں، اس کے بروقت علاج پر توجہ نہ دی جائے تو مریض معدے

 کے سرطان میں تبدیل ہوسکتا ہے اور خطرات کا باعث بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماری عموماً خون یا متاثرہ انسان کی باڈی فلوئڈ کے ذریعے پھیلتی ہے کہ مرض سے بچاؤ کے لئے بچوں کی پیدائش کے فوری بعد ہیپاٹائٹس بی کے ٹیکے لگوائے جائیں اور ڈیڑھ سال کی مدت میں ان ٹیکو کے کورس کو تکمیل تک پہچایا جائے۔ ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین اس مرض سے تحفظ کے لئے ایک بے ضرر طریقہ ہے۔ ماہرین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ معدے کی ایسی جلن ہے جو زخم کو پروان چڑھانے کا باعث بنتی ہے اور اگر یہ زخم متواتر بڑھتا رہے تو اس کی جراثیمی خطرات کو زائل کرنے میں جسم کی ناکامی، کسی خطرناک دوا کے استعمال کو ترک کرنے میں علاج کی ناکامی یا خود بخود جنم لینے والی اینٹی باڈیز اور دیگر عوامل جو معدے میں سوزش کا باعث بنتی ہوں۔ اس طرح ۷۵ فیصد مریضوں میں یہ مرض ایک دائمی مرض بن جاتا ہے۔ یہ صورت مریض کے لئے زہر قاتل ہے۔ اس صورت میں مرض کی ظاہری علامت دیر سے نمودار ہوتی ہے۔ مرض میں غیر معمولی اتار چڑھاؤآتاہے جو معالجین کے لئے علاج میں مشکلات کا سبب بنتا ہے اور مرض کے ہونے یا نہ ہونے میں تشخیصی مراحل میں رکاوٹ پیش آتی ہیں۔ تشخیص کے مرحلے میں مزید اطمینان کے لئے ڈاکٹر مریض کے جگر کی بایوآپسی بھی کرسکتا ہے۔ تشخیصی تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ معدہ پر ہیپاٹائٹس کے اثرات رونما ہوچکے ہیں۔ معالجین کی یقینی تشخیص کے بعد علاج کے لئے انٹر فرون انجکشن تجویز کرتے ہیں۔ جس میں ریباوائز کیپسول کو بھی ملایا جاتا ہے اور اگر مریض کو اس مرض میں مبتلا ہوئے ایک عرصہ گزر چکا    ہو تو معالجین سرجری کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔ معالجین کی مشترکہ حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ اگر

ہیپاٹائٹس سی کے مریض کے معدے کی کارکردگی کے منفی اثرات نظر آرہے ہیں اور معدے کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے اور مریض کی زندگی کو خطرات درپیش ہیں تو وہ مریض کے لئے معدے کی پیوند کاری کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ ناکارہ جگر کو نکال کر کسی عطیہ دینے والے اور صحت مند انسان کا جگر لگاکر مریض کو ایک نئی زندگی کی نوید دیتے ہیں۔ ماہرین ہیپاٹائٹس سی کے بچاؤ اور پھیلاؤ کو کم کرنے کے لئے خود اور دوسروں کو اس موذی مرض سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ وہ ایک مرض کے استعمال شدہ سرنج سے گریز اور دوسرے کے خون کو ہاتھ لگانے سے پہلے دستانے کے استعمال کو بھی منع کرتے ہیں انسانی جسم پر شوقیہ نقش و نگاریا کوئی نام کندہ کرانے کے دوران متعلقہ اوزاروں کی ڈاکٹری اصولوں کے مطابق صفائی ستھرائی پر بھی روز دیتے ہیں۔ اسی طرح ڈینٹل کلینک میں حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اوزاروں کی صفائی ستھرائی کا ہمہ وقت خیال رکھنا لازمی ہے۔ مریض یا اس سے متعلق لوگ حجامت بنواتے وقت ہیئر ڈریسر کے اندرونی ماحول، اوزاروں کی صفائی سے متعلق اطمینان حاصل کرلیں کہ اوزاروں کی صفائی مطلوبہ طریقے سے ہوگئی ہے۔ اسی طرح استعمال شدہ بلیڈ کے بجائے نئے بلیڈ کو ترجیح دیں جب کہ ماہرین کی متفقہ حکمت عملی اور رائے کے مطابق بیماریوں سے بچنے کے لئے صفائی ستھرائی اولین ترجیح ہوتی ہے۔صفائی اور پاکی کی صورت میں ہم دیگر بہت سی بیماریوں سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں۔سیمینار میں فیکلٹیز ممبران، پوسٹ گریجوئٹس ، ٹرینیز، ہاؤس آفیسرز ارو ایم بی بی ایس کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔ ایکسپرٹ ماہرین میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمدو پروفیسر طاہر حسین، ڈاکٹر افتخار حیدر، پرنسپل ڈینٹل کالج ڈاکٹر کاشف اکرام نے طلبا و طالبات کے سوالات کے جوابات دئے۔ جب کہ ماہرین نے عالمی ادارۂ صحت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ۲۰۳۰ء تک علم و تحقیق کی مدد سے دنیا سے ہیپاٹائٹس امراض کا مکمل خاتمہ کردیں گے۔ آخر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ بقائی نے مقررین اور شرکا ورکشاپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ۳۰ برس سے بھی پہلے سے عوام الناس کو صحت کے مسائل سے آگاہی دے رہے ہیں۔ جب کہ بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے قیام سے اور فاطمہ ہسپتال کی موجودگی اس علاقہ میں صحت کے مسائل بڑی حد تک حل ہوئے