Seminar on Hyperlipidemia - Baqai Medical University



کراچی:۹؍مئی(پ،ر) آرام طلب شاہانہ طرزِزندگی اور مرغن غذا ؤں کے روزمرہ استعمال کے علاوہ بگڑے ہوئے معاشرتی ماحول میں منشیات اور دیگر ممنوع مشروبات کی لت نے ہمیں موٹاپے سے قریب تر کردیا ہے۔ افراد کے خون میں چکنائی کی آمیزش اور بڑھتے ہوئے کولسٹرول سے امراضِ قلب ، ذیابیطس، فالج اور دیگر بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایٹ پروفیسرآف میڈیسن ڈاکٹر رعنا تبسم نے بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار ’’خون میں چکنائی کی زیادتی‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پرائمری سطح پر تشخیص اور فیملی میڈیکل ہسٹری کو جانتے ہوئے معالج علاج کو موثر بناسکتا ہے جبکہ مریض احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بیماری سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ سیکنڈری سطح پر خون میں کولسٹرول کی زیادتی کو معالج کارڈیو ڈیزیز کا نام دیتے ہیں۔یورپ کے بعد پاکستان میں امراض قلب کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔ کولسٹرول اور موٹاپے کے عوامل میں دل کا دورہ، ذیابیطس فالج کے خطرات دیکھتے ہوئے ہمیں اپنی طرزِ زندگی میں سادگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر رعنا تبسم نے کہا کہ ہمیں عمر کے تقاضوں کے مطابق اپنی صحت اور تندرستی کو برقرار رکھنے کے اصولوں پر عمل کرنا چاہئے۔ ذرا سی بد احتیاطی سے بیماری خصوصاً امراضِ قلب کا شکار ہو نا خلاف عقل رویہ ہے۔ شماریاتی جائزہ کے مطابق ٹاپ ۱۰ ؍اموات کا ر ڈیو ڈیزیز کے باعث ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ہم اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کی فکر ابتدائی عمر میں ہی کرلیں کیونکہ موجودہ طرزِ زندگی میں کم عمری میں بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔متوازن غذاؤں کے انتخاب،ورزش یا چہل قدمی کی عادت کو اپناکر منشیات سے اجتناب اور مرغن غذاؤں سے دوری اختیار کرتے ہوئے دل کی بیماری سے نجات کو ممکن بناسکتے ہیں۔خون میں چکنائی کے مربوط نظام سے ہمارے دل کا پمپنگ اسٹیشن عمدگی سے اپنا کام کرتے ہوئے ہمارے دل و دماغ اور دیگر جسمانی اعضا کو خون پہنچاتا ہے اور شریانوں کے ذریعے خون کی باقاعدہ روانی اور رسائی کو ممکن ہمیں متحرک اور فعال رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ دوسری صورت میں بد احتیاطی سے ہماری شریانوں میں خون میں بڑھتی ہوئی چکنائی سے کولسٹرول کا بینک بن جاتاہے جو خون کی روانی کو متاثر کرکے انسان کو ہارٹ فیلیوراور ذیابیطس کے علاوہ فالج جیسے خطرات سے معذور بھی ہوسکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اپنی زندگی کو قدرتی نسخہ کے مطابق خود ہی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے صحت مند نسل کو پروان چڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے