Seminar on Broad Spectrum Antibiotic Coverage at Baqai Medical University



کراچی:۵؍مئی(پ،ر) شعبۂ میڈیسن بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ہلٹن فارما کے اشتراک سے

("Broad Spectrum Antibiotic Coverage)’

اینٹی باؤٹک ادویات کے دائرۂ اثر‘ پر سیمینار کا انعقاد ہوا۔ ایسوسی ایٹس پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر محمد عادل خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علاج معالجے میں اینٹی باؤٹک ادویات استعمال کرتے ہوئے تین نسلیں گزر ہوچکی ہیں۔ وقت کا تقاضایہ ہے کہ ہم معالجین اور طبی ماہرین تیزی سے بدلتی طبّی ترقی کے اس دور میں اینٹی باؤٹک ادویات کے دائرۂ اثر کی جانچ پڑتال کریں کہ بیشتر امراض سے مریضوں پر اینٹی باؤٹکس ادویہ کے انسانی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ کسی بھی مریض کے لئے کسی دوا کے استعمال کی مدت میں ابتدائی ۴۸ گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں ان ادویات کے مثبت اور منفی اثرات پر مزید تحقیق سے انہیں نوعِ انسانی کی شفایابی کے لئے مفید بنانے کی ضرورت ہے۔ مستقبل کے معالجین کے لئے یہ ایک خصوصی اور انتہائی اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین ادویات کی تحقیق کے مطابق مختلف اینٹی باؤٹک ادویات پر بیکٹیریا حملہ آور ہوچکے ہیں جن کے اثرات سے کئی ایک بڑی مہلک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ ادویات کے استعمال کے اثرات دیرپا نہیں رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ شعبۂ طب تحقیق کے ساتھ ترقی اور تغیر پذیری کے عمل سے گزررہا ہے۔ ہمیں اپنی طبی جامعات کلیات کو جدید طبی میڈیسن سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ فاطمہ ہسپتال بی ایم یو کے ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے سوال و جواب کے وقفے میں ڈاکٹروں اور ہاؤس آفیسروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی صورت حال میں ہم پر غوروفکر کے نئے باب کھل گئے ہیں۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں گذشتہ چالیس برس کے میڈیسن کے ریکارڈ اور تجربات کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں۔ ہماری خاص توجہ ٹی بی اور سرطان کی بیماریوں میں اینٹی باؤٹک ادویات کے استعمال اور ان کے مثبت و منفی اثرات پر رپورٹ مرتب کرنے پر ہونی چاہئے۔ انہوں نے معالجین کے لئے ضروری قرار دیا کہ وہ مرض کی صحیح تشخیص کی طرف توجہ دیں اور شفا کے لئے اصل دوا منتخب کرنے کی کوشش کریں۔ پیتھالوجسٹ ، فارما کو لوجسٹ ، بائیو لوجسٹ جیسے پیشہ ور اس جانب خصوصی توجہ دیں۔ اس موقع پر پروفیسر طاہر حسین نے اپنے تجربات اور مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میڈیسن کلچر کو فروغ دینے کی بات کریں۔ آخر میں گفتگو کو سمیٹتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ بقائی نے طلبا و طالبات کو مسلسل سیکھنے اور مطالعہ کی عادت اپنانے پر زور دیا۔پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔