Pink Ribbon Awareness Program

کراچی:۲ نومبر(پ ر) دل کی دھڑکن موسیقی کی مانند ہے۔ دل ہمارے جسم کے سینہ کے بائیں جانب ہوتا ہے جہاں سائنس نے جدت پذیری اختیار کی وہاں مذہب اسلام نے ہمیں بتا دیا تھا کہ دل پر کسی قسم کا دباؤ یا رکاوٹ درپیش نہیں ہونی چاہئے تاکہ حرکت جان برقرار رہے۔ اسی لئے رسول اکرم ﷺ ہمیشہ دائیں کروٹ سونے کا عمل اپنایا۔ اس تناظر میں بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں"ECG-Interpreation"کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ ہیوسٹن ہسپتال امریکہ کے ماہرقلب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جسم میں خون کی روانی اور جسم کے ہر عضو تک اس کی رسائی کو ممکن بنانے میں دل ایک پمپنگ اسٹیشن کا کام انجام دیتا ہے۔ جہاں سے خون کی رسائی جسم کے ہرعضو تک بلا رکاوٹ جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی دل جسم میں خراب اور استعمال شدہ خون صاف کرکے دوبارہ استعمال کے قابل بناتا ہے۔ جب کہ دل کی دھڑکن زندگی کی علامت ہے۔ دھڑکن دل کا بند ہونا یا اس میں درپیش رکاوٹ کو معالج حرکت قلب بند ہونا قرار دیتے ہیں۔ اس طرح دل پر بارگراں سے انسان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوجاتا ہے جب کہ دلی امراض ہایپرٹینشن یا ہائی بلڈپریشر کا باعث ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد طاہر نے کہا کہ ہم مادی ترقی میں اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات میں آرام طلبی اور سہولتوں کے سبب ہم مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جب کہ مختلف بیماریوں کے تدارک اور ملک میں صحت مند معاشرے کا قیام ہماری قومی اور اجتماعی ضرورت ہے۔ انہوں نے امریکی یونیورسٹی اور ہسپتالوں میں اپنے تجربات اور مشاہدات کا تجربہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دل کی بیماریوں کی تشخیص بالخصوص ہائپرٹینشن کا ٹیسٹ یا بلڈ پریشر کی تشخیص کے لئے کمپوٹرائزدایکوکارڈیوگرافی سے حرکات قلب کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس طرح معالج قلب یہ اخذ کرتا ہے کہ دل کی رگوں کی موٹائی کا تناسب کیا ہے۔ اس طرح کے مضمون کے علاوہ دل کے امکانی اتار چڑھاؤ کا تجزیہ کرنے کے لئے ٹیسٹ دل کے امراض کے تعین کے لئے ایک تشخیص ہے۔ جس کے بعد ہی معالج علاج کے لئے دوا تجویز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائپرٹینشن میں مبتلا افراد کی سانس غیر متوازن ہوجانے کے سبب دل کی دھڑکن میں تیزی انسانی زندگی کی بقا کے لئے انتباہ ہے جسے معمولی نہ سمجھا جائے۔ اس طرح تاخیر یاغفلت سے مریض موت سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں میں پھیپھڑے سے ایک مائع رطوبت خارج ہوتی ہے اور دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں معالج ’’ای سی جی الیکٹروکارڈیوگرافی‘‘ یعنی برقی قوت سے حرکات قلب کے گراف سے قلب کی اندرونی صورتحال کے نتائج حاصل کرکے مریض کا علاج شروع کردیتا ہے جب کہ عموماً ۴۰ برس کے بعد انسانی اعضا متاثر ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور ۶۰ برس کی عمر میں دلی امراض شدید تر ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سانسوں کی دھڑکن میں ایک یکساں ردھم ہوتا ہے۔ اس موسیقی کی دھن میں معمولی سی بے ترتیبی کا ہونا دل کی خرابی کی نشاندہی کرتی ہے اور جب ECG کے ذریعے موسیقی کا بے سراگراف پڑھتے ہیں اور اگر یہ ردھم معمول کے مطابق نہ ہوتو تشخیص یہ بتاتی ہے کہ دل میں کوئی گڑبڑ ہوچکی ہے یعنی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہے۔ خون پمپ کرنے والے دل سے جڑی شریانوں سے انسانی جسم کے مختلف اعضا تک خون کی ترسیل میں رکاوٹ ہی دل کا عارضہ شمار کیا جاتا ہے۔ جب کہ دل کے امراض موروثی بھی ہوسکتے ہیں لہٰذا خاندانی طبی ہسٹری اور مریض کی طبی صورتحال کو جان کر ای سی جی گراف تیار کرنا دل کے امراض سے آگاہی اور علاج کے درست آغاز کے لئے معالج کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر زاہدہ بقائی نے کہا کہ اس طرح ورکشاپ صحت سے وابستہ افراد کے لئے تجدید معلومات اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں