Honourable Chancellor Prof.Dr Fareed Uddin Baqai has Passed Away. Namaz e Janaza is at Baqai Medical University After Zuhr 1:30 pm

کراچی:۔۰ ۱؍ جولائی( پ۔ر)چانسلر ڈاکٹر فرید الدین بقائی گزشتہ شب ۸۲ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ سیلف میڈ لوگوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے ذاتی وسائل سے قومی فلاح کے قابلِ ذکر کام کئے۔ ان کا عظیم الشان کارنامہ بقائی میڈیکل یونیورسٹی اور ان کے قائم کردہ ۳۵ سے زائد اداروں کی صورت میں زندہ رہے گا۔
ڈاکٹر فرید الدین بقائی دہلی کے ایک نامور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ مغلیہ دور میںآپ کے آباؤاجداد نے ایران سے ہجرت کی اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔ خاندان کے دو بھا ئی بقااﷲ اور ذکا اﷲ کا طب کے پیشے میں احترام اور بڑا نام تھا۔
حکیم بقااﷲ کی اولاد بقا ئی کے نام سے جانی گئی۔ ڈاکٹر فریدالدین بقائی جب ۵ سال کی عمر کو پہنچے تو والدِ محترم نظام الدین وفات پاگئے۔ برصغیر کی دو حصوں میں تقسیم کے دوران فرقہ وارانہ قتل وغارت کی وجہ سے ڈاکٹر فریدالدین بقائی کی والدہ ماجدہ اپنے ۵ بیٹوں کے ساتھ ہجرت کرکے دہلی سے لاہوراور پھرکراچی پہنچیں۔اُس خاتون کے لئے یہ یقیناًانتہائی مشکل وقت تھا جس کا سب کچھ کھوچکا تھا، انہوں نے اپنے خاندان کی اچھی دیکھ بھال کی اور کپڑوں کی سلائی کڑھائی سے ملنے والی معمولی آمدنی سے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔ اس بہادر خاتون نے اپنی زندگی کی آخری سانس ۱۹۹۲ء میں لی۔ ڈاکٹر بقائی کے لئے پورا دورِ تعلیم انتہائی مشکل وقت تھا ایم بی بی ایس کی تعلیم سے پہلے تک انہوں نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کام کرکے اپنے گھر والوں کی کفالت میں بھی حصّہ لیا۔
ڈاکٹرفریدالدین بقائی۲۲مئی۱۹۳۵ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۸ء میں ڈاؤمیڈیکل کالج کراچی سے MBBS کی ڈگری حاصل کی۔ زندگی نے آپ کو کیرئیر بنانے کاموقع دیا اور آپ نے اپنے کیرئیر کی شروعات اپنے جدی پیشے بطور ماہر امراض چشم کراچی کے سب سے معروف"Spencer Eye Hospital" سے کی۔ آپ کی دلچسپی بنیادی طور پرسرجری سے تھی اورنوکری آنکھوں کے علاج کی ملی ۔یہ آپ کے لئے کافی نہ تھا، آپ جناح پوسٹ گریجویٹس میڈیکل سینٹر منتقل ہوگئے اور وہاں آپ کواستاد محترم کرنل سعید احمد کے ساتھ رہنے کا موقع ملا، انہوں نے آپ کو سرجری کے پیشے میں طاق کیا۔ ڈاکٹربقائی ۱۹۶۵ء میں سرجری کی اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ روانہ ہوئے۔ یہ مرحلہ ان کے لئے کمانے اور سیکھنے کا تھا۔ ۱۹۶۵ء میں آپ نے"Edinburgh" سے "FRCS and FICS" کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۹۳ء میں آپ کوپاکستان کالج آف فزیشینزاور سرجنز نے FCPS کا فیلو منتخب کیا گیا۔ ۱۹۶۵ء سے ۱۹۶۹ء تک پاکستان نیوی میں آپ نے سرجن کمانڈر کی حیثیت سے خدمت کی۔ دورانِ جنگ ۱۹۷۱ء کمبائنڈملٹری ہسپتال راولپنڈی میں فوجی خدمات انجام دیتے رہے۔ ۱۹۶۵ء میں پاکستان چیپٹر آف انٹرنیشنل کالج آف سرجن کے سکریٹری منتخب ہوئے او ر ۱۹۹۳ء میں پاکستان چیپٹر کے صدر منتخب ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں آپ نے ایشیا پیسیفک کانگریس آف سرجنز ICS) ( کی میزبانی کی۔ پہلے آپ سکریٹری تھے اور اب آپ سوسائٹی آف سرجن آف پاکستان کے صدر ہیں۔ دسمبر ۱۹۹۳ء میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس کالج آف فزیشنزاور سرجن آف پاکستان کے کنوینر تھے۔ آپ نے طویل مسافت کی اور بڑے پیمانے پرمیڈیکل کانفرنسوں میں شرکت کی۔آپ کے کئی تحقیقی مقالے شائع ہوئے اور اس وقت آپ چیرمین بقائی فاؤنڈیشن اور چیر مین ڈپارٹمنٹ آف سرجری، بقائی میڈیکل کالج ہیں۔
۱۹۶۹ء میں انہوں نے بقائی ہسپتال ناظم آباد اور۱۹۸۷ء میں بقائی میڈیکل کمپلیکس کی بنیاد رکھی جواب بقائی میڈ یکل کالج، بقائی ڈینٹل کالج، بقائی انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنس، ڈپارٹمنٹ آف پوسٹ گریجویٹس میڈ یکل انسٹیٹیوٹ، انسٹیٹیوٹ آف ہیماٹولوجی، بقائی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ٹیکنالوجی، بقائی انسٹیٹیوٹ آف آنکالوجی اورکالج آف نرسنگ پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر فرید الدین بقائی پاکستان میں کمیونٹی اورینٹڈ ایجوکیشن (COME) کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے معاشرتی ربط کے ساتھ طبی تعلیم کی بنیاد رکھی۔
سراسر ہمت، اور اﷲ تعالیٰ پر یقین کے ساتھ، انہوں نے اپنے آپ کو بنایا۔ جو کچھ وہ آج ہیں اس کے پس پشت ان کی محنت ہمت اورلگن ہے۔ تاہم، وہ، سمجھتے ہیں کے کامیابیاں اﷲتعالیٰ کی طرف سے تحفہ اورانعام ہیں۔ ڈاکٹر فرید الدین بقائی ہمیشہ نئے خیالات اورپورے جوش اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے کوشاں رہتے ہیں ۔ان کا زیرِ تکمل منصوبہ شہرِ بقا ہے۔ یہ حیدرآباد سے 38 کلومیٹرپہلے واقع ہے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد اورایک مکمل شہرتعلیم و صحت ہوگا۔
انہیں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں ۱۹۹۵ء میں ملکہ نیپال کی جانب سے طلائی تمغہ بموقع سارک سرجیکل کانفرنس ، صدر جمہوریہ اسلامیہ مالدیپ مامون عبد القیوم کی جانب سے ۲۰۰۵ء میں مالدیپ نیشنل ایوارڈ برائے مالدیپ میں طبی خدمات اور تاحیات انسانی خدمات پر صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ۲۰۰۶ء میں عطا ہوئے۔