Baqai Medical University First Community Based & Community Oriented
Medical University

Seminar on ”Interactive Session on Epilepsy” held at BMU on 10th February 2017

کراچی:۔ ۱۰؍فروری ( پ۔ر) بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں مرگی آگاہی سیمینار(Interactive Session on Epilepsy) کا انعقاد کیا گیا۔ پروفیسرعارف ہیریکر سربراہ شعبہ نیرولوجی نے مرگی کے دورے کے متعلق ابتدائی معلومات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرگی کا مرض کی شرح ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں یکساں ہے۔ پاکستان میں تقریباً۸ء۹ فیصد لوگوں میں اس مرض کی علامات پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی کے مریض کی مختلف علامات ہوسکتی ہیں۔ مریض میں اعصابی کمزوری سے دماغی دوروں کی ابتدا ہونا مرض کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح مریض کا اعصابی مریض ہونا معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ مرض عام طور پر ہاتھ سے شروع ہو تا ہے اور پھر سارا جسم مرضِ مرگی سے متاثر ہوجاتاہے۔ اس مرض میں عموماً تین طرح کی علامات شدید تر ہوتی ہیں۔ اگر ابتدامیں (Samenthethic) ہے تو مریض کا دماغی توازن معمول کے مطابق ہے۔ دوسری اہم بات مریض کے منہ سے جھاگ کا جاری ہونا اور کپکپاہٹ سے مریض زبان کو دانتوں سے چبالے تو سمجھ لیجئے کہ مریض مرگی میں مبتلا ہے۔پروفیسر عارف ہیریکرنے کہا کہ جب مرگی مرض کی تشخیص ہوجائے تو مزید پریشانی سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ معالج کی مشاورت سے علاج کا آغاز کردیا جائے اور مرگی مرض سے معالج ابتدائی دوا کے طورپر گریمائیٹ جو مرگی مرض سے شفا کے لئے ایک عمدہ تجویز ہے۔ جبکہ بیشتر معالج آج بھی قدیم نسخوں اور دیگر دوا تجویز کرتے ہیں مگر اب جدید تحقیق سے مرگی کے مرض سے شفایابی کے لئے پر اثر ادویات کی تیاری جاری ہے جن سے مرض کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔ ہمارے لئے اہم یہ ہے کہ ہم جدید طریقہ علاج کے مطابق مریض کی زندگی کو معمول کے مطابق بحال کرسکیں۔ مریض کی حالت میں بہتری کے لئے دوا کا باقاعدہ استعمال اوّلین شرط ہے۔ شفا منجانب قدت ہے۔ جبکہ دوسری صورت میں اس مرض کے لئے مونو تھراپی(Mono Therapy) بھی ضروری ہے۔ انہوں نے سیمینار کے شرکا کو بتایا کہ معالج کے لئے اصل مسئلہ یہ ہے کہ مرض کی تشخیص اور شفایابی کے لئے کس دوا کا انتخاب کیا جائے انہوں نے کہا کہ دواؤں کے مضر اثرات اتنے خطرناک نہیں ہوتے جتنا مرگی کے دوروں میں مبتلا مریض کی تکلیف دہ کیفیت۔ انہوں نے مرگی کی دیگر علامات میں مریض کا دماغی طور پر غیر حاضر ہونا۔ یا دماغ میں خلل واقع ہونا بھی مرگی کے خطرے کی گھنٹی ہے جبکہ مریض میں صرف دورے پڑنا ہی ضروری نہیں ہیں۔ دواؤں کے مضر اثرات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور نا ہی معالج کو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ مریض اور معالج کی مستقل مزاجی یہ ہے کہ مرگی کا تواتر سے علاج مستقل جاری رکھنا اہم ہے جس سے شفایابی ممکن ہے۔پروفیسر عارف ہیریکر نے مزید کہا کہ معالجین اور ماہرین اس مرض کی مزید آسان تشخیص اور مریض کی بحالی کو ممکن بنانے کے لئے مرض کی علامات کو تشخیص کے لئے تحقیق سے جدید دواؤں کی تیاریوں کو ممکن بنارہے ہیں جب کہ مرگی مرض میں مبتلا مریض قبل اس کے دیگر بیماریوں میں بھی مبتلا ہوسکتا ہے جو سینڈ روم بیماری کو ظاہر کرتی ہے مگر ہم مرض کی علامت اور تشخیص کے بعد بیماری سے شفا کے لئے مصروف عمل رہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم جدید ترین پیش رفت سے مریضوں کو مرگی مرض سے شفا کو ممکن بنادیں گے۔ اس موقع پر چیئرپرسن شعبہ میڈیسن پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے مرگی مرض کی ابتدائی طبی امداد اور مرض کے تین تشخیصی عوامل سے شرکا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مرگی مرض میں مبتلا مریض کا بیہوش ہونا، ہوش میں آنا یا بھول جانا یہ سب دماغی خلل کے نتائج ہوتے ہیں جب کہ کسی خاندان میں مرگی مریض کا ہونا پریشانی کا سبب بنتا ہے مگر تمام بیماریاں منجانب قدرت ہوتی ہیں۔ اس طرح علاج اتنا مشکل نہیں ہے۔ اہمیت یہ ہے کہ علاج کے لئے پیش رفت کی جائے اور مرض کی علامت کو دیکھتے ہوئے مختلف نسخوں اور ٹوٹکوں کے بجائے مریض کے مکمل علاج پر توجہ مرکوز رکھی جائے یعنی ۸ء ۹ فیصد لوگوں میں اس مرض کی علامت کا موجود ہونا خطرات کی نشاندہی ہے ہمیں مرگی مرض کا شعور اُجاگر کرنا ہوگا کہ ہمیں اپنی ۴۰ برس کی عمر کے بعد اپنا خیال رکھنا ہوگا جب کہ سرکاری اور نجی شعبوں میں بیماری سے صحت کی بحالی تک لوگوں کو گھرکی دہلیز تک نہ سہی صحت کے مسائل کے حل کے لئے لوگوں کو عمدہ علاج کی سہولتوں کا فراہم کرنا اہم ہے۔ جس طرح ہم فاطمہ ہسپتال میں مریضوں کو مختلف بیماریوں سے شفا کے لئے کام کررہے ہیں۔ ہمیں طبی سہولتوں سے آراستہ شفا خانوں کی ضرورت ہے۔ سوال و جواب کے سیشن کو سمجھاتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ٹینشن کی صورت میں سکون آور دوائیں کا استعمال خلاف معمول خطرات کی علامات ہیں بہتر یہی ہے کہ مرض کی تشخیص کے بعد باقاعدہ علاج کو ترجیح دی جائے۔ اسی طرح مرگی مرض میں مبتلا مریض کو سکون آور دواؤں کا عادی بنانا علاج نہیں ہے بلکہ دیگر بیماریوں میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ متواتر دوروں کا پڑنا دماغی خلل سے تعلق رکھتا ہے جو دماغ کو متاثر کرتے ہیں لہٰذا علاج کے لئے دواؤں کا استعمال معالج کی مشاورت سے کیا جانا چاہئے۔ ہم لوگوں کی بہتری کے لئے کام کررہے ہیں کل کوئی مریض یہ نہ کہے کہ ہمارا کوئی ڈاکٹر نہیں۔ ہمیں مریضوں کے لئے مسیحا بننا ہوگا یہی انسانیت ہے۔