Baqai Medical University First Community Based & Community Oriented
Medical University

Workshop on “Family Planning and contraception” in collaboration with NGO SAFOG/SOGP on 24th February 2017

کراچی:۔ ۲۴؍فروری ( پ۔ر) بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں NGO SAFOG/ SOGP کے تعاون سے "Family Planning and Contraception" کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ بقائی نے کہا کہ ماں اور بچہ صحت مند ہیں تو پورا پاکستان توانا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم وحئ اوّل ’’ اقراء‘‘ کو سمجھتے ہوئے ملک میں تعلیم کو پھیلائیں اور بالخصوص خواتین میں تعلیم کو عام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معالج کا پیشہ ہی مسیحائی ہے۔ ملک میں بڑھی ہوئی آبادی کے پس منظر میں ہم نے اپنی فکر کو ایک معاشی تکون : تعلیم، صحت اور روزگار پر مرکوز کر رکھا ہے جو ترقی کی طرف گامزن کرتی ہے۔اس تناظر میں ہم نے خواتین کے لئے سوشل آبس کی بنیاد رکھی۔ آج ہم پروفیسر،ڈاکٹر کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ مسیحائی کے ساتھ اس معاشی تکون پر عمل کو اپنی اوّلین ترجیحات میں شامل رکھیں جو خدمت، محنت اور محبت کی علامت بھی ہے۔ اس موقع پر نائب صدر SAFOG/ SOGPسعدیہ پال نے کہا کہ بقائی میڈیکل یونیورسٹی ان کا گھر ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ بقائی کی سرپرستی میں ہم نے گذشتہ ۵ برس میں بہت کچھ سیکھا ہے جب سے ہم خواتین کی صحت و ترقی کے لئے کام کررہے ہیں۔ ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے خاندانی منصوبہ بندی ایک اہم ضرورت ہے۔ ملکی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ڈاکٹروں اور اپنے طلبہ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ محدود وسائل میں ہم کس طرح بڑھتی ہوئی آبادی کو تعلیم، صحت اور روزگار فراہم کرسکتے ہیں جب کہ صفائی نصف ایمان ہے اور ہمارے عقیدہ کا لازمی جز ہے۔ جبکہ ہم ماحولیاتی آلودگی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ۴۰ فیصد آبادی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کیا ہے۔ جب کہ ۸۳ فیصد آبادی کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ بہتر خاندان کیا ہوتاہے۔ جبکہ دنیا کی چھٹی کثیر آبادی والی مملکت کے طور پر ہم آتش فشاں کے دہانے پر جی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی سطح پر کوئی بھی خاتون خود کشی نہیں کرتی اور نہ ہی دوران زچگی بچوں کو اپنی شفقت سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ہم قوم کو خاندانی منصوبہ بندی کا شعور دے کر ملکی ترقی کا باب رقم کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں مسلم اسکالرز کا کام ہے کہ وہ مذہبی نقطہ نظر سے لوگوں میں خاندانی منصوبہ بندی کا شعور اجاگر کریں۔ جبکہ ابلاغ اس موضوع پر موثر کردار ادا کرسکتاہے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر فرخ ناہید آبسٹیٹرکس / گائناکولوجی بقائی میڈیکل یونیورسٹی نے کہا کہ بحیثیت ایک گائناکولوجسٹ دورانِ زچگی خواتین کو خاندان کی بہترین نشو و نما کے لئے خاندانی منصوبہ بندی سے آگاہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ملک کو ایک فلاحی ریاست دیکھنا چاہتے تھے ہمیں قائد کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک فلاحی ریاست کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنا چاہئے۔ عباسی شہید ہسپتال کی پروفیسر سمبل سہیل نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے لئے جنوبی ایشیا کے باسیوں میں خاندانی منصوبہ بندی کا شعور اجاگر کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ جبکہ اسے اپنانے میں افادیت اور قومی ترقی کا راز مضمر ہے۔ جبکہ اس سے انحراف برتنا ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا باعث ہے۔ برگیڈیئر ڈاکٹر مبشرہ ثمینہ نے کہا کہ زچگی میں بوقت ضرورت سرجری کی ضرورت پیش آسکتی ہے اور ہم پیچیدہ کیسز میں ڈلیوری بذریعہ سرجری بھی کرتے ہیں جبکہ اب جدید طبی سائنس میں خاندانی منصوبہ بندی اور مائع حمل میں سرجری ایک موثر عمل ہے۔ جس سے اجتناب نہیں برتا جاسکتا ہے۔ ماہرین اور معا لجین کی مشترکہ غور و فکر ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم "Family Planning and Contraception" یعنی خاندانی منصوبہ بندی اور مائع حمل کے قدیم اور جدید طبی طریقہ کار پر عمل کرکے ملک کو ایک فلاحی ریاست کا روپ دے سکتے ہیں۔ ورکشاپ کے دوسرے سیشن میں
Hands on Workshop "Counselling & Application of Family Planning Methods" میں پروفیسر فرخ ناہید، ڈاکٹر سمبل سہیل، برگیڈیئر مبشرہ سہیل، ڈاکٹر شازیہ عالم، پروفیسر آصفہ غازی، ڈاکٹر امبر طفیل، ڈاکٹر نگہت احسان نے بقائی میڈیکل یونیورسٹی کی ایل آر سی میں طالبات کو فیملی پلاننگ کے مختلف طریقہ کار کر تربیت دی۔ورکشاپ کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر عذرا سلطانہ سربراہ شعبہ زچہ و بچہ نے ماہرین، مقررین، شرکا بالخصوص وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ بقائی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پروفیسرز، ڈاکٹرز، ہاؤس آفیسر اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے ورکشاپ میں شرکت کی۔