Baqai Medical University First Community Based & Community Oriented
Medical University

Workshop on “Frozen Shoulder” at BMU on 14th April 2017

کراچی:۔ ۱۴؍ اپریل( پ۔ر)بڑھتی ہوئی انسانی عمر میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ جب انسانی جسم میں زوال کے اسباب رونما ہونے لگتے ہیں اور ظاہری جسمانی کیفیت میں ٹوٹ پھوٹ کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ انسانی اعضا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہارآرتھو پیڈک سرجن شاہد الیاس نے بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں منعقدہ ورکشاپ ’’ منجمد کندھے‘‘ (Frozen Shoulder) کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ مرض شدید تر ہوتا جاتا ہے اور انسان کو یہ احساس دلادیتا ہے کہ بڑھاپے کی ابتدا ہوچکی ہے۔ کندھوں کا یہ درد ہاتھوں کو حرکت دینے کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا افراد جب معالج سے رجوع کرتے ہیں تو ماہر سے ماہر معالج کو ان کا درد نظر نہیں آتا۔ ایکسرے رپورٹ میں بھی اس کی نشاندہی نہیں ہوتی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلز کی بیماری ہے۔ اور مسلز میں سختی یا اکڑاہٹ کی وجہ سے درد محسوس ہوتا ہے۔ مسلز کی سختی کی تشخیص انتہائی مشکل سے ہوتی ہے۔ مریض درد کی صورت میں نیند سے محروم ہوجاتا ہے ۔ ماہر معالج مریض کے ایکسرے، الٹراساؤنڈ کی مدد سے باریک بینی سے درد کی کیفیات کا جائزہ لیتے ہیں جہاں انہیں مسلز کے پھٹ جانے کی وجہ سے مریض کے درد کی وجہ کا احساس ہوتا ہے ۔پروفیسرشاہد الیاس نے کہا کہ مختلف معائنہ جات کے بعد معالج ایم آئی آر ٹیسٹ کو حرف آخر سمجھتا ہے۔ اس طرح کی پیتھالوجیکل ڈیزیز جسم کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی اور دماغی محنت میں اس طرح کی علامات سامنے نہیں آتیں ۔ انسانی جسم ایک مشین کی مانند ہے اس میں کوئی بھی خرابی یابیماری ممکن ہوسکتی ہے۔ ان تمام امراض میں مبتلا مریضوں کو فوری طورپر اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہئے جو تشخیص کے بعد علاج اور آرام کا مشورہ دے سکتا ہے ۔ نصف سے زائد مریضوں کا علاج دافعِ درد کی گولیوں سے ممکن ہوجاتا ہے۔ تاہم اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ فوری طورپر شفا ہوجائے گی اور نہ ہی مدت کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔مسلز میں درد کی تشخیص پر اس کا دوسرا علاج ہائیڈرو تھراپی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مریض اپنے معالج کے مشورہ اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق فزیو تھراپی کو بھی علاج کا حصہ سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ معالج کی نظر میں اس مرض کے باعث انسانی جسم کی مکمل پیتھالوجی متاثر ہوتی ہے ۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو قدرت کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزارنا چاہئے ۔ قدرت کے اصولوں میں اچھی غذا کے ساتھ ایسی باقاعدہ ورزش بھی شامل ہے جس میں تمام اعضا کو حرکت دینے کا عمل شامل ہو۔ اس طرح ہم صحت مند زندگی کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔