Baqai Medical University First Community Based & Community Oriented
Medical University

Students of 18th Batch of Baqai Institute of Pharmaceutical Sciences organize Farewell for 17th Batch passing out students on 17th April 2017

کراچی:۔ ۱۷؍ اپریل( پ۔ر)بقائی انسٹیٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسز کے ۱۷؍ ویں بیچ کے طلبا و طالبات نے ۱۸؍ویں بیج کے کامیاب طالبعلم ساتھیوں کے اعزاز میں الوداعی تقریب’’ سات ستاروں کے غبار وداع‘‘ (The Star Dust Farewell 2017) کا انعقاد کیا۔ جس میں حصولِ مقصد کی خوشی اور اپنی مادرِ علمی سے جدا ہونے کے رنج کے مشترک جذبات نظر آئے۔ ڈین فیکلٹی آف فارمیسی پروفیسر ڈاکٹر شوکت خالد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ۱۸ ؍ویں بیج کے فارغ التحصیل طلبا و طالبات کی کامیابی ایک جانب ہمارے لئے فخر کی علامت ہے کہ ہم نے آج سے پانچ سال پہلے انہیں یومِ آغاز تعلیم میں خوش آمدید کہتے وقت ان کی کامیابی کے لئے دعا کی تھی ۔اس دعا کی پہلی قسط اور ان طلبہ کے سہانے خوابوں کی تعبیر فارم ڈی کی سند کی صورت میں مل گئی ہے وہ اب ڈاکٹر کہلانے کے حق دار ہوگئے ہیں اسی کے ساتھ اب ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوگاہے۔ہمیں آج ان طلبہ کو الوداع کہنے کا رنج ہے وہاں اس بات کی خوشی ہے کہ ان طلبا و طالبات کے والدین و سرپرستوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کے جو سہانے سپنے دیکھے تھے اُنہیں آج اس کی تعبیر مل رہی ہے ۔ میں خوشی اور غم کے پس منظر میں دلی مبارک باد پیش کرتیں ہوں اور ۱۷؍ ویں بیج کے طلبا کے لئے بھی دعا ہے کہ وہ سلامت رہیں ہزار برس کہ انہوں نے ۱۸ ویں بیچ کے لئے اسٹار ڈسٹ فیئر ویل کا دھوم دھام سے انعقاد کیا ہے۔ یقیناًاِنہیں بھی اپنی محنت کا ثمر اسی برس مل جائے گا۔ ابتدا سے آج تک بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبا و طالبات جس طرح بیرون ملک میں ملک و قوم کے نام کو معتبر کرنے کے ساتھ اپنی مادرِ علمی کا نام روشن کررہے ہیں یقیناًآپ بھی اپنے پیشروؤں کی طرح اس عظمت کو مزید بلند کریں گے ۔ اس موقع پر ۱۷ ویں بیچ کے طلبا و طالبات نے اپنے اساتذہ کرام کی محنت کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے ساتھیوں کو خوش کن اور چلبلے القابات سے نواز ا اور اپنے طلبہ ساتھیوں کی طرف سے انسٹیٹیوٹ کے سی ای او پروفیسر ڈاکٹر فضل حسین اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر شوکت خالد کو یادگاری نشانات پیش کئے گئے۔ فیئر ویل کی اس تقریب میں طلبا و طالبات خوش رنگ پوشاکوں میں ملبوس تھے اور یادگار سیلفیاں بنانے میں مصروف تھے۔ رنگ و موسیقی کی دھنوں میں وادئ مہران کے رسیلے نغموں پر دھمال ہوا۔ رنگ و نور کا یہ خوش رنگ سنگم وسطِ شب تک جاری رہا ۔